World

جنیوا :مقبوضہ کشمیر میں نگرانی اور جبر کیلئے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر تشویش کا اظہار

جنیوا: اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے موقع پر منعقدہ ایک اہم سیمینار میں بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مصنوعی ذہانت کے نگرانی اور جبر کے ایک آلے کے طور پر استعمال پرسخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کمیونٹی ہیومن رائٹس ایڈوکیسی سینٹر کے زیر اہتمام "مصنوعی ذہانت: شہری اور سیاسی حقوق پر اثرات”کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں بین الاقوامی انسانی حقوق کے کارکنوں، قانونی ماہرین اور عالمی وکالتی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مقررین نے مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے خطرات پر بحث کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر خصوصی توجہ مرکوز کی۔مقررین نے کہا کہ مصنوعی ذہانت محض ایک غیر جانب دار تکنیکی ذریعہ نہیں بلکہ ایسی ٹیکنالوجیز کا مجموعہ ہے جو نگرانی، معلومات کے کنٹرول اور افراد کی پروفائلنگ کی صلاحیت کو کئی گنا بڑھا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق شدید سکیورٹی اقدامات والے علاقوں، خصوصا مقبوضہ کشمیر، میں ایسی ٹیکنالوجیز کا استعمال شہری اور سیاسی حقوق کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریوں کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔
ورلڈ مسلم کانگریس کے نمائندے الطاف حسین وانی نے ٹیکنالوجی اور ریاستی کنٹرول کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹولز جبر کے موجودہ نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں۔ہیومن رائٹس ایڈوکیس سینٹر کے نمائندے ڈاکٹر مزمل ایوب ٹھاکر نے "احتساب کے فقدان”کو ایک اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ الگورتھمک فیصلوں سے متاثرہ افراد کو بلیک باکس ماڈلز اور کارپوریٹ رازداری کی رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے، جس سے موثر قانونی چارہ جوئی مشکل ہوجاتی ہے۔
گلوبل کشمیر الائنس کے نمائندے ظفر احمد قریشی نے مواصلاتی ذرائع کی بندش کے اثرات اور مقبوضہ کشمیر میں باقی ماندہ آزاد آوازوں کو دبانے میں الگورتھمک مواد کی نگرانی کے ممکنہ کردار کو اجاگر کیا۔یونیورسٹی آف جنیوا کے تحقیقی سکالر سجاد علی نے بائیومیٹرک نظام اور پیشگی پولیسنگ کے خطرات پر قانونی اور علمی تجزیہ پیش کرتے ہوئے خبردار کیا کہ آزادانہ نگرانی کے بغیر مصنوعی ذہانت امتیازی سلوک کو خودکار شکل دے سکتی ہے اور بے گناہی کے مفروضے کو متاثر کرسکتی ہے۔
سیمینار کے دوران مقررین نے مقبوضہ کشمیر میں نگرانی کے ایک وسیع نظام کی طرف بھی توجہ دلائی، جس میں سی سی ٹی وی کیمرے، بائیومیٹرک ڈیٹا بیس اور موبائل مانیٹرنگ شامل ہیں۔ انہوں نے جاسوسی کے جدید سافٹ ویئر، بشمول پیگاسس،کے استعمال اور ریموٹ بائیومیٹرک شناخت کے ذریعے لوگوں کی نگرانی اور گرفتاریوں کے ممکنہ خطرات پر تشویش ظاہر کی۔
سیمینار کے اختتام پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنربرائے انسانی حقوق کے دفتر ، انسانی حقوق کونسل اور رکن ممالک کے لیے متعدد سفارشات پیش کی گئیں۔
شرکا نے ہائی کمشنربرائے انسانی حقوق کے دفترسے مطالبہ کیا کہ شدید سکیورٹی والے ماحول میں مصنوعی ذہانت اور نگرانی کے استعمال پر خصوصی موضوعاتی رپورٹ تیار کی جائے اور مقبوضہ کشمیر سمیت ایسے علاقوں میں انسانی حقوق پر مرتب ہونے والے اثرات کو دستاویزی شکل دی جائے۔
انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ریکارڈ رکھنے والی ریاستوں کو مصنوعی ذہانت کی نگرانی کی ٹیکنالوجیز کی برآمد پر پابندی سے متعلق اقدامات کیے جائیں، جبکہ رکن ممالک پر زور دیا گیا کہ زیادہ خطرے والے مصنوعی ذہانت کے نظام کے لیے لازمی انسانی حقوق اثرات کی تشخیص اور عوامی مقامات پر ریموٹ بائیومیٹرک شناخت کے استعمال پر موثر ضوابط نافذ کریں۔
منتظمین نے کہا کہ عالمی برادری کے پاس اس معاملے سے نمٹنے کے لیے قانونی مینڈیٹ کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری بھی موجود ہے اور نگرانی و خودکار کنٹرول کے ایسے نظام کو ان لوگوں کی مستقل میراث نہیں بننے دینا چاہیے جو پہلے ہی اپنے بنیادی شہری اور سیاسی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button