دریا تنازعات کا باعث یا اختلافات کی بنیاد نہیں بلکہ قیام امن کا ذریعہ بننے چاہیے: سردار مسعود خان
اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ دریا تنازعات کا باعث یا اختلافات کی بنیاد نہیں بلکہ قیام امن کا ذریعہ بننے چاہیے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سردار مسعود خان نے یہ بات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی ترجیحات اور عالمی برادری کو درپیش چیلنجز پر گفتگو کر تے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی اولین ترجیح امن اور ثالثی کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کو اجاگر کرنا ہونی چاہیے، بالخصوص تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کی بحالی میں پاکستان کے کردار کو نمایاں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے صورتحال کی پیچیدگی کے باوجود اس کردار کو ادا کیا ہے۔
ان کے مطابق اقوام متحدہ کے چارٹر اور مینڈیٹ کے تحت اصولی طور پر تنازعات کی روک تھام اور معاہدوں میں سہولت فراہم کرنے کے لیے یہ ثالثی عالمی ادارے کو کرنی چاہیے تھی، تاہم جب یہ کردارموثر طور پر ادا نہیں کیا گیا تو پاکستان آگے بڑھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی مغربی سرحد سے ابھرنے والے دہشت گردی کے خطرے، دیرینہ تنازعہ جموں و کشمیر اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اس کے حل کی ضرورت کو بھی اجاگر کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان کے دروازے کھلے ہیں اور تمام حل طلب مسائل کو سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
سردار مسعود خان نے آبی خودمختاری بالخصوص سندھ طاس معاہدے پر زور دیتے ہوئے دریائوں کو تصادم کے بجائے امن کے ذرائع قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پرامن تعاون کے اصولوں اوربین الاقوامی طریقہ کار کے ذریعے تنازعات کے حل کی اہمیت کو اجاگر کرتا رہے گا۔انہوں نے موسمیاتی تبدیلی اور ترقی کے حق کو بھی پاکستان اور عالمی برادری کی اہم ترجیحات قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی اور شدید موسمی حالات کے حوالے سے انتہائی خطرے سے دوچار ہے، جس کے لیے مربوط عالمی حکمت عملی درکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدم مساوات میں کمی، غربت کا خاتمہ اور پائیدار ترقی کا فروغ عالمی ایجنڈے کا مرکزی حصہ ہونا چاہیے۔ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے سردار مسعود خان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور جنریٹو اے آئی مواقع کے ساتھ ساتھ چیلنجز بھی پیش کرتی ہیں۔ ان کے مطابق عالمی برادری کو مناسب ضابطہ کار وضع کرنے چاہئیں تاکہ ان ٹیکنالوجیز کو ایسے طریقے سے بروئے کار لایا جا سکے جو انسانیت کے لیے مفید ہوں اور انہیں نقصان دہ مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ مذاکرات کے امکانات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تہران اور واشنگٹن دونوں کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے قطر کے ساتھ مل کر دونوں فریقوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافے سے گریز کرتے ہوئے مذاکرات کی طرف بڑھیں۔ ان کے مطابق مزید مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک کی جانب پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اعتماد سازی اور سفارتی کوششوں کے حوالے سے ابھی خاصا کام باقی ہے۔
سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان عالمی تنازعات میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور پرامن حل کے فروغ کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، جبکہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں کثیرالجہتی اداروں کے زیادہ مضبوط اور موثر کردار کی وکالت بھی کرتا رہے گا۔







