جنیوا : مقررین کا مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پراظہار تشویش
جنیوا:جنیوا میں مقررین نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پرتشویش کا اظہار کیاہے ۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے موقعپر مقررین نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں املاک کی ضبطی ، سماجی و اقتصادی پسماندگی اور شدید نفسیاتی صدمے جیسے کشمیریوں کے مسائل کا حل تلاش کرے۔
انٹرنیشنل ایکشن فار پیس اینڈ سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ کے نمائندے محب علی نے ویانا کنونشن اور پروگرام آف ایکشن کے تحت خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں املاک سے متعلق بھارتی قابض انتظامیہ کی پالیسیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے جموں و کشمیر لینڈ گرانٹس رولز 2022 کے اثرات کو اجاگر کرتے کہا کہ ریاستی اور اراضی کی لیزکی تجدید نہ ہونے کے باعث سرینگر کے علاقوںبشمول پولو ویو، راج باغ اور کرن نگرمیں بے دخلی کے نوٹسز کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
نزول اراضی کے 9ہزار877کنال کے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے جن میں سے 5ہزار619کنال تجارتی مقاصد کے لیے لیز پر دی گئی ہیںانہوں نے کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اراضی کے انتظام اور بے دخلی کے تمام اقدامات مناسب قانونی عمل ، عدم امتیاز اور مناسب رہائش و روزگار کے بنیادی حق کے بین الاقوامی معیارات کے مطابق ہوں۔
ورلڈ مسلم کانگریس کی نمائندہ مناہل گل نے مقبوضہ علاقے میں موجودہ ریزرویشن (مخصوص کوٹے)کے نظام کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی پالیسیوں کی وجہ سے کشمیری مسلمانوں کی سیاسی اور سماجی و اقتصادی پسماندگی بڑھ رہی ہے۔انہوں نے میرٹ کوٹے میں 30فیصد تک کمی پر بھی تنقید کی اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل پر زور دیا کہ وہ ان امتیازی اقدامات پر بھارتی حکام سے جواب طلب کرے ۔
انٹرنیشنل مسلم ویمنز یونین کی سیدہ مشال زہرا نے پسماندہ طبقات کو درپیش انسانی بحران پر بات کرتے ہوئے خواتین اور بچوں کی حالتِ زار کو اجاگر کیا ۔انہوں نے بھارتی پارلیمنٹ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2023میں لاپتہ ہونے والی 509بچیوں میں سے 300 کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکاہے۔ انہوں نے کونسل کی توجہ ہزاروں ایسی خواتین کی جانب بھی مبذول کرائی جنہیں "نصف بیوہ” کہا جاتا ہے، جن کے شوہروںکو دوران حراست لاپتہ کردیاگیاہے ۔ مشال زہرا نے طویل تنازعے کی وجہ سے پیدا ہونے والے شدید ذہنی مسائل کاذکر کرتے ہوئے میڈیسنز سانز فرنٹیئرزکے ایک سروے کا حوالہ دیا جس کے مطابق وادی کشمیر میں 45فیصد بالغ افراد شدید ذہنی دبائو کا شکار ہیں، جن میں ڈپریشن ، بے چینی اور دیگر کی شرح نمایاں ہے۔مقررین نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ویانا اعلامیہ کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے ۔






