World

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارت ایک بار پھر شرمندہ ،ٹرمپ نے نئی دہلی کے پروپیگنڈے کو بے نقاب کردیا

نیویارک : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک بار پھر مئی 2025کی پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے بھارت کے سرکاری بیانیے کی براہِ راست تردید کی۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 22ستمبر 2026کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ انہوں نے پاکستان اوربھارت کے درمیان تنازعہ ختم کرانے میں مدد کی اور اسے ان جنگوں میں شامل کیا جنہیں ان کی انتظامیہ نے ختم کرایا۔ ٹرمپ نے مزید آگے بڑھتے ہوئے عالمی رہنماوں کو بتایا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں 3 کروڑ اور شاید اس سے بھی کہیں زیادہ جانیں بچانے کا کریڈٹ دیا، جبکہ شہباز شریف کو ایک شاندار شخص بھی قرار دیا۔ یہ بیان نئی دہلی کے لیے سیاسی طور پر باعثِ شرمندگی ہے کیونکہ بھارت مسلسل کسی بھی تیسرے فریق کی ثالثی کو مسترد کرتا آیا ہے اور اس کا موقف ہے کہ 10مئی 2025 کو جنگی کارروائیاں روکنے کا فیصلہ بھارتی اور پاکستانی عسکری قیادت کے درمیان براہِ راست طے پایا تھا۔ صدرٹرمپ نے بار بار بھارتی موقف کی تردید کی اور دعوی کیا کہ امریکی مداخلت نے تصادم رکوانے میں مدد کی، جبکہ اس سے قبل وہ اپنی مداخلت کو تجارت اور ٹیرف کے دباو سے بھی جوڑ چکے ہیں۔ لہذا یہ کوئی ایک الگ تھلگ بیان یا میڈیا کی قیاس آرائی نہیں تھی۔ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر مئی 2025کے واقعات سے متعلق اپنا موقف خود اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی برادری کے سامنے رکھا، جبکہ بھارت بدستور عوامی سطح پر امریکی ثالثی سے انکار کر رہا ہے لیکن اب اس تضاد کو چھپانا ممکن نہیں۔بھارت کہتا ہے کہ کسی تیسرے فریق نے ثالثی نہیں کی ، ٹرمپ بار بار کہتے ہیں کہ ان کی مداخلت نے بھارت پاکستان جنگ رکوانے میں مدد کی۔ نئی دہلی کے لیے تکلیف دہ سوال اب بھی برقرار ہے، اگر تصادم ختم کرانے میں امریکہ کا واقعی کوئی کردار نہیں تھا، تو پھر موجودہ امریکی صدر مسلسل عوامی سطح پر اس کردار کا دعوی کیوں کر رہے ہیں؟ حتی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سامنے بھی انہوں نے اپنا موقف دہرایا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button