اجین :600سالہ تاریخی شاہی مسجد کی مسماری پر صورتحال کشیدہ
پولیس کی مظاہرین پر بے دریغ شیلنگ اور لاٹھی چارج
اجین:بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں 600سالہ تاریخی شاہی مسجد کے ایک حصے کو سڑک کی کشادگی کے منصوبے کے نام پر منہدم کرنے کے معاملے پر کشیدگی شدت اختیار کرگئی ہے اور پولیس اور احتجاج کرنے والے مقامی افراد کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کابے دریغ استعمال کیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق یہ تنازع 2028میں ہونے والے سمہاستھا کمبھ میلے کی تیاریوں کے سلسلے میں سڑک کی کشادگی کے منصوبے سے متعلق ہے۔منصوبے کے تحت متعدد تعمیرات پر سڑک کی مجوزہ حدود میں آنے کی وجہ سے مسمار کیلئے نشانات لگائے گئے ہیں ، جن میں شاہی مسجد کا ایک حصہ بھی شامل ہے۔
مقامی مسلمان کئی دنوں سے مسجد کے تحفظ کے مطالبے پر وہاں موجود تھے۔27ستمبر کو مسجد کی نمائندہ کمیٹی اور انتظامیہ کے درمیان اتفاقِ رائے کے تحت، مسجد کے چھجے کا تقریبا تین فٹ حصہ، جہاں نماز ادا نہیں کی جاتی کو ہٹانے پر رضامندظاہر کی گئی تھی۔تاہم مقامی لوگوں کے مطابق اگلی صبح حکام بلڈوزروں اور پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ مسجد کے حصے کو مندہم کرنے کیلئے دوبارہ پہنچی، جس کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد مسجد کے گرد جمع ہوگئی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس پر پتھرا ئوکے واقعات بھی رپورٹ ہوئے، جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے ذریعے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔
رپورٹس کے مطابق مسجد کے ایک حصے کو سڑک کی مجوزہ توسیع کیلئے ہٹایا جانا ہے جبکہ مسجد انتظامیہ کی جانب سے متبادل راستے یا تعمیراتی حل کی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب مقامی انتظامیہ کا موقف ہے کہ سڑک کی توسیع شہری ترقی اور 2028کے بڑے مذہبی اجتماع کے دوران ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ شاہی مسجد کے علاوہ تقریبا 272 دیگر تعمیرات بھی سڑک کی توسیع کے منصوبے سے متاثر ہونے والی ہیں۔
واقعے کے بعد شاہی مسجد کے اطراف سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ریپڈ ایکشن فورس سمیت اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے، جبکہ حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس تنازع نے تاریخی مذہبی عمارت کے تحفظ، شہری ترقی اور امن و امان کے حوالے سے بحث کو مزید نمایاں کردیا ہے۔








