ستمبر کے دوران بھارت بھر میں سات مساجد شہید کی گئیں: رپورٹ
تاریخی مساجد کو مسماری، بے دخلی کے نوٹسز اور دھمکیوں کا سامنا ہے
نئی دہلی: بھارت میں ستمبر 2026 کے دوران کم از کم سات مساجد کو مکمل یا جزوی طور پر مسمار کر دیا گیا، جبکہ متعدد دیگر مساجد کو بے دخلی کے نوٹسز، قانونی تنازعات اور ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ صورتحال مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو ظاہر کرتی ہے۔
اسلاموفوبیا مانیٹر کی ’’بھارت میں مساجد پر حملے‘‘ کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ستمبر کے دوران دو مساجد کو مکمل طور پر شہید کیا گیا، جبکہ پانچ دیگر مساجد کے کچھ حصے مسمار کیے گئے۔ متاثرہ مساجد میں سے پانچ تاریخی اہمیت کی حامل تھیں، جن میں سے بعض کئی صدیوں پرانی ہیں۔
رپورٹ میں سرکاری نوٹسز، جرمانوں، تعمیراتی پابندیوں اور مسجد کی زمین سے متعلق تنازعات کے کم از کم آٹھ واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سے سات واقعات بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاست اتر پردیش، جبکہ ایک مہاراشٹر میں پیش آیا۔ حکام نے ان کارروائیوں کا جواز مبینہ غیر قانونی تعمیرات، تجاوزات اور سڑکوں کو چوڑا کرنے کے منصوبوں کو قرار دیا، جبکہ مسلمانوں نے مساجد کی مسماری کی






