چین نے لداخ کے مقامات کے نام تبدیل کرنے کے بھارتی اقدام کو مسترد کردیا
نام تبدیل کرنے سے خطے کی متنازعہ حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی: چین
بیجنگ:چین نے لداخ کے مختلف مقامات کے نام تبدیل کرنے کے بھارتی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر قانونی اور غیر موثرقرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ما ئوننگ نے یہ بات منگل کو ایک پریس بریفنگ کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے چین اور بھارت کی سرحد کے مغربی حصے کے بارے میں بیجنگ کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔مائو ننگ بھارت کے اس اعلان پر ردعمل دے رہی تھیں جس میں سرکاری نقشے پر لداخ کے 28مقامات کے نام تبدیل کرنے کی بات کی گئی تھی۔ما ئونے کہا کہ چین نے نام نہاد مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کو کبھی تسلیم نہیں کیا جسے بھارت نے یکطرفہ طور پر قائم کیا تھا۔ انہوں نے مقامات کے نام جاری کرنے کے بھارتی اقدام کی مخالفت کا اعادہ کیا۔مائو ننگ نے کہا کہ بھارت کی طرف سے ایسے اقدامات غیر قانونی اور غیر موثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے چین اور بھارت کی سرحدی حدود کے مغربی حصے کی وہ حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی جسے چین تسلیم کرتا ہے۔لداخ تاریخی طور پر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ رہا ہے۔ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی تنظیمِ نو کے بعد 31اکتوبر 2019 کو لداخ کو مرکز کے زیر انتظام ایک علیحدہ علاقہ بنا دیا تھا۔چین خطے کے بعض حصوںخصوصا چین اور بھارت کی سرحد کے مغرب میں واقع علاقوں پر بھارت کے علاقائی دعووں کو مسترد کرتا ہے ۔






