ڈوڈہ میں غیر اخلاقی رویے اور رازداری کی خلاف ورزیوں کے خلاف طالبات کا احتجاج
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ڈوڈہ کے گوجر بکروال گرلز ہاسٹل میں مقیم طالبات نے ہراسانی، بدسلوکی اور ان کی رازداری کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاج کیا جس کے بعد حکام نے ہاسٹل وارڈن کو عہدے سے ہٹا دیا۔
طالبات نے بتایا کہ وارڈن انہیں زبانی طور پر ہراساں اور بدسلوکی کا نشانہ بناتی تھی اور ان سے کھانا پکانے اور کپڑے دھونے سمیت گھریلو کام کرنے پر مجبور کرتی تھی۔ انہوں نے اس واقعے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا جس میں کپڑے تبدیل کرتے وقت ایک طالبہ کی تصاویر بنائی گئیں اور یہ تصاویر قابض انتظامیہ سے وابستہ ایک شخص کے ساتھ شیئر کی گئیں۔ان انکشافات کے بعد درجہ فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والی طالبات نے ہاسٹل کے باہر احتجاج کیا جس پر حکام نے وارڈن کو اس کے عہدے سے ہٹا دیا۔ طالبات نے صفائی کے ناقص انتظامات، غیر معیاری خوراک، ناکافی روشنی اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی عدم دستیابی کی بھی شکایات کیں۔یہ ہاسٹل گوجر اور بکروال برادری سے تعلق رکھنے والی طالبات کو تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیاہے اور اس میں وادی چناب کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی تقریباً 108 طالبات رہائش پذیر ہیں۔طالبات اس سے قبل حکام سے رجوع کرنے کے علاوہ پولیس میں بھی شکایت درج کرا چکی تھیں، جبکہ والدین اور سماجی و سیاسی نمائندوں نے بھی وارڈن کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان الزامات بالخصوص ہراسانی اور رازداری کی خلاف ورزیوں کی شفاف تحقیقات کرائی جائے۔






